سی پیک پاکستان کو علاقائی روابط کا اہم مرکز بنا رہا ہے، جام کمال خان
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا حامی ہے، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کے معاشی منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے۔ سی پیک نے پاکستان کو علاقائی روابط کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھارا ہے اور پاکستان وسطی ایشیا اور مغربی چین کو گرم پانیوں اور بندرگاہوں سے منسلک کر رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ہانگ کانگ میں منعقد ہونے والے 11ویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو محض ایک اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ ممالک اور اقوام کو قریب لانے کا مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ علاقائی تعاون اب تجارتی راستوں سے آگے بڑھ کر مربوط ویلیو چینز کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ ڈیجیٹل جدت، پائیداری اور ہنرمند روزگار کو تجارتی ڈھانچے کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان مغربی، وسطی اور مشرقی ایشیا کے درمیان ایک اہم تجارتی پل بن رہا ہے۔ ریلوے، سڑکوں اور ٹرانزٹ ٹریڈ روابط کی توسیع پاکستان کو وسطی ایشیا کے لیے مختصر اور مؤثر تجارتی راستہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط پاکستان کے لیے ڈیڑھ ارب صارفین پر مشتمل وسیع منڈی کے دروازے کھول رہے ہیں۔ بندرگاہی اصلاحات، ڈیجیٹل کسٹمز اور جدید لاجسٹکس کے ذریعے تجارتی وقت اور لاگت کم کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان ایک ابھرتے ہوئے ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر سرمایہ کاروں کو وسیع علاقائی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی اور بہتر کریڈٹ ریٹنگ سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ توانائی، بنیادی ڈھانچے، معدنیات اور صنعت کے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی حکمت عملی برآمدات میں اضافے، صنعتی جدیدکاری اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے پر مبنی ہے۔ ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، علم پر مبنی صنعتوں اور خدمات کو عالمی ویلیو چینز سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان زراعت، اہم معدنیات اور انسانی وسائل کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ جدید بیج، موسمیاتی سمارٹ زراعت اور بہتر سپلائی چینز کے ذریعے غذائی تحفظ اور برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تانبے، کوئلے اور دیگر اہم معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستان شفاف اور کاروبار دوست نظام کے تحت سرمایہ کاروں کو معدنی وسائل کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت نے پاکستانی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی سالانہ ترسیلاتِ زر پاکستانی انسانی وسائل کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہیں۔
انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
جام کمال خان نے مزید کہا کہ پاکستان مذہبی، ثقافتی اور قدرتی سیاحت کے بے مثال مواقع بھی رکھتا ہے، جنہیں علاقائی تعاون اور سرمایہ کاری کے ذریعے مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
