Blog

  • ایرانی حملوں کے چھ ماہ مکمل، زبانی یقین دہانیاں اب کافی نہیں: اماراتی سفارت کار

    ایرانی حملوں کے چھ ماہ مکمل، زبانی یقین دہانیاں اب کافی نہیں: اماراتی سفارت کار

    ابوظبی: متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر سفارت کار نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امارات اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کے چھ ماہ بعد خطے میں اعتماد کا سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے، جس کے باعث مستقبل کے سکیورٹی معاہدوں کے لیے قابلِ تصدیق اور قابلِ عمل ضمانتیں ضروری ہوں گی۔

    خلیج ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ابراہیم الظاہری نے کہا کہ بلااشتعال حملوں نے تہران کے ساتھ تعلقات کی بنیاد سمجھے جانے والے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    ان کے مطابق جب کسی ملک کو ہزاروں میزائل اور ڈرون روکنے پڑیں تو محض زبانی یقین دہانیاں اپنی تزویراتی اہمیت کھو دیتی ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ مستقبل کی علاقائی پالیسی صرف نیک نیتی یا غیر رسمی وعدوں پر قائم نہیں کی جا سکتی۔

    مشکل حالات میں بھی رابطے برقرار رہے

    ڈاکٹر محمد الظاہری نے بتایا کہ اعتماد میں شدید کمی کے باوجود بحران کے دوران سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ عمان اور قطر نے فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں جبکہ متحدہ عرب امارات کے اپنے ورکنگ چینلز بھی فعال رہے۔

    انہوں نے کہا کہ مئی میں انہی رابطوں کے ذریعے سعودی عرب اور قطر کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کی گئی تاکہ کشیدگی کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

    اماراتی سفارت کار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ مستقبل کے سکیورٹی انتظامات کو غیر رسمی وعدوں کے بجائے سخت، قابلِ نفاذ اور آزادانہ طور پر جانچے جانے والے معیارات سے منسلک کرنا ہوگا۔

    آبنائے ہرمز پر سمجھوتہ نہیں ہوگا

    ڈاکٹر محمد الظاہری نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو ناقابلِ سمجھوتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ہے اور کسی ایک ملک کو اسے سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے یا خود کو اس کا نگران سمجھنے کا حق حاصل نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات علاقائی استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اس پالیسی کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ امارات کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے علاقے کے دفاع اور شہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان پر قانونی کارروائی کا مکمل حق حاصل ہے۔

    مذاکرات میں خلیجی ممالک کی نمائندگی ضروری

    اماراتی سفارت کار نے کہا کہ ایران کے ساتھ مستقبل کے کسی بھی پائیدار علاقائی سمجھوتے میں خلیجی ممالک کی براہِ راست نمائندگی ناگزیر ہوگی۔

    ان کے مطابق دوطرفہ رابطے تجارت، سرحدی انتظام اور فوری سکیورٹی معاملات کے لیے ضروری رہیں گے، جبکہ خلیج تعاون کونسل مشترکہ علاقائی مؤقف پیش کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی ایک مسئلے کو الگ کرکے مذاکرات کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ایک مؤثر سکیورٹی فریم ورک میں ایران کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، پراکسی نیٹ ورکس اور بحری سلامتی جیسے تمام معاملات کو بیک وقت شامل کرنا ضروری ہے۔

    مذاکرات کے قابلِ پیمائش نتائج ہونے چاہئیں

    ڈاکٹر محمد الظاہری نے کہا کہ صرف بات چیت کا جاری رہنا پیش رفت نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ سفارت کاری کا مقصد قابلِ پیمائش نتائج اور معاہدوں پر عملی عمل درآمد ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عارضی جنگ بندی یا کشیدگی میں مختصر کمی کے بدلے سیاسی رعایتیں دینا ایک غلطی تھی۔ اس کے باوجود رابطے برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ بحران کے دوران غلط اندازوں اور مزید تصادم کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بامقصد پیش رفت کے لیے تہران کو پہلے تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند کرنا، پڑوسی ممالک کے خلاف براہِ راست اور پراکسی کارروائیاں روکنا، بحری نقل و حرکت مکمل طور پر بحال کرنا اور آزادانہ نگرانی والے پابند سکیورٹی انتظامات قبول کرنا ہوں گے۔

    اماراتی سفارت کار کے مطابق یہ بنیادی اقدامات خطے کو کشیدگی کے ایک اور متوقع چکر میں داخل ہونے سے بچانے اور طویل مدتی استحکام یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔