ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں، احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت قومی اقتصادی کونسل سے منظور شدہ 11 قومی اقتصادی مشنز میں سے ایک ہے، جو پورے پروگرام کے لیے مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قابل اعتماد اور مؤثر ذرائع سے آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر 10 قومی اقتصادی مشنز کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جا سکتے۔
احسن اقبال نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل ملک کا اعلیٰ ترین معاشی فیصلہ ساز آئینی ادارہ ہے اور اسی نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے 11 قومی اقتصادی مشنز کی منظوری دی ہے۔ ان مشنز کا بنیادی مقصد پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ کے اہداف قابل حصول ہیں، تاہم ان کے لیے ہر شعبے میں بنیادی تبدیلی اور مؤثر اصلاحات درکار ہیں۔ موجودہ نظام اور روایتی طریقہ کار کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے کچھوے کی رفتار سے نہیں بلکہ ڈیجیٹل رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ملک کو روایتی طریقہ کار سے نکل کر تیز رفتار اور ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے، تاہم موجودہ سطح کا استحکام پائیدار معاشی ترقی کے لیے کافی نہیں۔ معاشی ترقی کے لیے مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ 2018 میں مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ کی سطح کہیں زیادہ تھی، جبکہ آج ترقیاتی بجٹ اس تناسب سے بہت کم ہے۔ تقریباً دو ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کے ساتھ صرف استحکام حاصل کرنا مکمل معاشی استحکام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ترقیاتی بجٹ مسلسل سکڑتا جا رہا ہے جبکہ بجٹ کا موجودہ ڈھانچہ ترقیاتی اخراجات کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنے میں رکاوٹ ہے۔ اگر جاری ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں کیے جا سکتے تو نئے منصوبے شروع کرنا بھی مشکل ہوگا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ معیشت کے لیے نئے وسائل پیدا کرنے اور موجودہ وسائل کو مؤثر انداز میں متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کاوشوں سے گزشتہ دو برس کے دوران حکومت کی ٹیکس وصولی کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم بڑا چیلنج ٹیکس کی شرح کم کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ اور ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ کم کرنا اور ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ملکی معاشی پالیسی کی ترجیح ہونی چاہیے۔ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل میں اضافہ کرنے کے ساتھ معیشت کو دستاویزی بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا، جو اس وقت ملک کی اہم ترین قومی ترجیحات میں شامل ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کی ذمہ داری ہے کہ وزیراعظم کی رہنمائی میں جامع قومی ترقیاتی منصوبہ تیار کرکے متعلقہ وزارتوں کو فراہم کرے تاکہ اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات کے واضح اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔ یہ طے کرنا ہوگا کہ کن شعبوں سے کتنی برآمدات حاصل کی جا سکتی ہیں اور اس مقصد کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا۔ ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور مؤثر وسائل متحرک کرنے کے ذریعے معاشی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔
