پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی، بلال اظہر کیانی
وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے کیش لیس اکانومی کے ایجنڈے کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے باعث جون 2026 تک مقررہ ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بات گیٹس فاؤنڈیشن کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت فاؤنڈیشن کے صنفی مساوات ڈویژن کی صدر ڈاکٹر انیتا زیدی نے کی، جبکہ گلوبل پالیسی اینڈ ایڈووکیسی ڈویژن کی قائم مقام صدر ڈاکٹر کلپنا کوچہر سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل تھے۔
ملاقات میں پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی، معاشی اصلاحات کے ایجنڈے، کیش لیس اکانومی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ’’راست کیو آر‘‘ کے فروغ کے لیے حکومت کی ساڑھے تین ارب روپے کی سبسڈی کے نتیجے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو دستاویزی بنانے، زیادہ سے زیادہ عوام کو مالیاتی نظام میں شامل کرنے اور سرکاری ادائیگیوں میں شفافیت و کارکردگی بڑھانے کے لیے حکومتی اصلاحات تیزی سے جاری ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کیش لیس معیشت کے فروغ اور ڈیجیٹل لین دین کو وسعت دینے کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی تاکہ مالیاتی نظام میں عوام کی شمولیت مزید بڑھائی جا سکے۔
گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد نے حکومتی اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کیش لیس پاکستان اور وسیع تر معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفد نے کرانداز کے ذریعے پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام اور معاشی اصلاحات کے لیے تعاون مزید بڑھانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
