پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کی اصولی منظوری دے دی گئی
پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کی کاشت کے حوالے سے پالیسی سطح پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، کابینہ کی متعلقہ کمیٹی نے ملک میں جی ایم مکئی کی کاشت اپنانے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔
سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے مطابق یہ پیش رفت ایس آئی ایف سی اور گرین پاکستان انیشیٹو کے تعاون سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، معیاری بیجوں اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔
جی ایم مکئی جدید بائیوٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ بیج ہے، جو بعض کیڑوں، بیماریوں اور موسمی دباؤ کے خلاف فصل کی مزاحمت بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار اور کسانوں کی آمدن میں اضافے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری کوششوں کے بعد بیج کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کے لیے اصولی منظوری حاصل ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ کے ساتھ ایس آئی ایف سی کے گرین پاکستان انیشیٹو کے چیف ایگزیکٹو نے بھی شرکت کی۔
مونسانٹو، بائر، کارگل، سِنجینٹا اور کورٹِیوا سمیت عالمی بیج کمپنیاں کئی دہائیوں سے پاکستان کی بیج کی صنعت میں سرگرم ہیں۔
سٹیٹ بینک کی رپورٹس کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیاں ہائبرڈ بیجوں کے ذریعے پاکستان میں زرعی جدت اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
جی ایم مکئی کی منظوری سے پاکستان میں جدید بیج ٹیکنالوجی کے استعمال، زرعی پیداوار میں اضافے اور فصلوں کو کیڑوں اور موسمیاتی دباؤ سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کے امکانات روشن ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق بدلتے ہوئے موسمی حالات کے تناظر میں جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ ملکی زرعی شعبے کی استعداد بڑھانے اور غذائی ضروریات پوری کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
