دنیا بھر میں سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ، یونیسکو کی گہری تشویش
اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو نے دنیا بھر میں سکولوں پر حملوں میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 میں دنیا بھر میں سکولوں پر 1,680 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہیں۔
اماراتی نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق یونیسکو نے ’’تعلیم کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر جاری پیغام میں بتایا کہ 2024 میں سکولوں پر حملوں کی تعداد 1,265 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 1,680 ہوگئی۔
یونیسکو کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 25 کروڑ 80 لاکھ بچے اور نوعمر افراد مختلف بحرانوں کے باعث اپنی تعلیم سے محروم یا متاثر ہوئے، جن میں 9 کروڑ 30 لاکھ بچے مکمل طور پر سکول سے باہر ہیں۔
یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل خالد العنانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ سکولوں پر حملوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں بچے تحفظ، تعلیم اور امید سے محروم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکولوں اور جامعات کا ہر حال میں تحفظ کیا جانا چاہیے اور تمام فریقین کو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بحران کے دوران بھی تعلیم محفوظ اور باوقار ماحول میں جاری رہے۔
تازہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق بحرانوں سے متاثر ہوکر سکول سے باہر ہونے والے بچوں میں سے تقریباً 80 فیصد، یعنی 7 کروڑ 40 لاکھ بچے، دنیا کے شدید ترین بحرانوں سے دوچار صرف 20 ممالک میں رہتے ہیں۔
یونیسکو کے مطابق بحرانوں کے دوران سب سے زیادہ کمزور بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی مزید مشکل ہوجاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 74 فیصد مہاجر بچے، 52 فیصد اندرونِ ملک بے گھر بچے اور 45 فیصد معذور بچے سکولوں سے باہر ہیں۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ بحرانوں کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں اور تعلیم جتنے زیادہ عرصے تک متاثر رہے گی، بچوں کے دوبارہ سکول واپس نہ آنے کا خطرہ اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ بالخصوص لڑکیوں کو استحصال اور بدسلوکی کے زیادہ خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یونیسکو کے مطابق یہ صورتحال مسلح تنازعات کے دوران بچوں کے تحفظ میں مجموعی بگاڑ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ نے 2025 میں بچوں کے خلاف 38,558 سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کی، جن سے 24,174 بچے متاثر ہوئے۔ یہ اقوام متحدہ کے نگرانی کے نظام کے آغاز کے بعد ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یونیسکو تنازعات اور بحرانوں سے متاثرہ 20 سے زائد ممالک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ان اقدامات میں بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تیاری مضبوط بنانا، سکولوں کے متاثر ہونے کی صورت میں تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنا اور بحران کے فوری خاتمے کے بعد تعلیمی نظام کی بحالی میں معاونت شامل ہے۔
’’تعلیم کو حملوں سے محفوظ رکھنے کا عالمی دن‘‘ منانے کا مقصد مسلح تنازعات کے دوران سکولوں، طلبہ اور اساتذہ کے تحفظ کی فوری ضرورت کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا ہے۔
