پولیو کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کا تعاون ناگزیر ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے اور ملک کے ہر حصے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے کے لیے حکومت، صحت کے کارکنوں، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کا مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار ورلڈ پولیو ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جو ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔
صدر مملکت نے تمام پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو اس قابلِ تدارک مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے پولیو کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں پولیو کیسز کی تعداد میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے، جو 1990ء کی دہائی کے اوائل میں سالانہ اندازاً 20 ہزار سے کم ہو کر 2025ء میں 31 اور 2026ء میں اب تک پانچ رہ گئی ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو حکومت، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، والدین، مقامی آبادیوں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 1994ء میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک گیر پولیو ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا اور اپنی صاحبزادی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو خود پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔
انہوں نے ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے چار لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا، جن میں 60 فیصد خواتین ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ان کارکنوں کی لگن اور جرات پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہیں ہر بچے تک پہنچنے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی جانی چاہیے، خصوصاً ان بچوں تک جو ویکسینیشن مہمات کے دوران کسی وجہ سے رہ جاتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ پولیو سے بچاؤ کی ہر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو تجویز کردہ قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے ساتھ معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کو بھی ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انہیں مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
صدر مملکت نے کمیونٹی نمائندوں، مذہبی و سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور ترقیاتی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں اور والدین میں بچوں کی ویکسینیشن کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے اور پولیو سے پاک مستقبل کا ہدف حاصل کرنے تک یہ کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔
