شام میں بے گھر شہریوں کی وطن واپسی شروع، نئی مشکلات کا سامنا
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ جنگ اور تشدد کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر کیمپوں میں پناہ لینے والے شامی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، تاہم واپس آنے والے خاندانوں کو نئی مشکلات کا سامنا ہے۔
شنہوا کے مطابق او سی ایچ اے نے بتایا کہ صرف جولائی اور اگست کے دوران تقریباً 39 ہزار افراد بے گھر افراد کے کیمپوں اور مراکز سے واپس اپنے علاقوں کو منتقل ہوئے۔ اقوام متحدہ نے اس واپسی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی ضروریات اب کیمپوں سے منتقل ہو کر ان علاقوں میں بڑھ رہی ہیں جہاں شہری واپس جا رہے ہیں۔
او سی ایچ اے کے مطابق واپس آنے والے خاندانوں کو تباہ شدہ مکانات، بنیادی سہولیات کی محدود دستیابی اور روزگار کے مواقع کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو معمول کی زندگی بحال کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
اقوام متحدہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر واپس آنے والی آبادیوں میں پانی اور بجلی کے نظام، ہسپتالوں، سکولوں، بیکریوں، سڑکوں اور گھروں سمیت بنیادی سہولیات کی بحالی میں معاونت کر رہا ہے۔
او سی ایچ اے نے حلب اور ادلب کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو روٹی تک بہتر رسائی حاصل ہوئی ہے، جبکہ مزید سہولیات سے تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ملک بھر میں انسانی امداد کی فراہمی بھی جاری ہے۔ جنوری سے جولائی کے دوران ہر ماہ اوسطاً 25 لاکھ افراد کو خوراک، صحت، رہائش، صاف پانی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں امداد فراہم کی گئی، جبکہ خاندانوں کو تقریباً 12 کروڑ ڈالر نقد امداد اور واؤچرز کی صورت میں فراہم کیے گئے۔
تاہم او سی ایچ اے نے خبردار کیا ہے کہ شام میں اب بھی ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ 2.9 ارب ڈالر کے انسانی امدادی منصوبے کے لیے ایک تہائی سے بھی کم فنڈز فراہم کیے جا سکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا کہ زندگی بچانے والی امداد کا سلسلہ جاری رکھنے اور وطن واپس آنے والے افراد کو اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد دینے کے لیے مسلسل اور لچکدار مالی معاونت ضروری ہے۔
