عالمی توجہ توانائی کی منتقلی سے توانائی کے تحفظ کی جانب منتقل ہو گئی، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جغرافیائی و سیاسی تنازعات اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توجہ توانائی کی منتقلی سے بڑھ کر توانائی کے تحفظ کے فوری چیلنج کی جانب مرکوز ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مختلف ملاقاتوں اور مکالموں میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے توانائی کے تحفظ، ایوی ایشن، صحت اور موسمیاتی مالیات سمیت اہم شعبوں میں پاکستان کی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔
عالمی اقتصادی فورم کے تحت ’’نئی معیشت میں ترقی کو توانائی فراہم کرنے‘‘ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی مکالمے میں شرکت کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جس میں بڑی حد تک نجی شعبے نے کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ توانائی کی فراہمی میں مشکلات کے وسیع تر معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ توانائی کا تحفظ غذائی تحفظ اور مجموعی معاشی مضبوطی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
پی آئی اے کی جدیدکاری اور بوئنگ سے تعاون
محمد اورنگزیب نے بوئنگ گلوبل کے صدر ڈاکٹر برینڈن نیلسن سے ملاقات میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے کی جدیدکاری اور پاکستان کے ایوی ایشن شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خزانہ نے پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کی خریداری سے متعلق بوئنگ کی نظرثانی شدہ تجویز کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں طیاروں کی جلد ترسیل، عبوری طور پر طیارے لیز پر لینے، امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی مالی معاونت، انجنوں اور اسپیئر پارٹس کی خریداری، دیکھ بھال اور گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کی بحالی سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔
انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری اور بڑے ہوائی اڈوں کے انتظام کو آؤٹ سورس کرنے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا اور ایوی ایشن سیفٹی، ضابطہ جاتی امور اور امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی میں تعاون کو سراہا۔
ہیپاٹائٹس سی پروگرام کی رفتار تیز کرنے پر زور
وزیر خزانہ نے ایبٹ کے فارماسیوٹیکل ڈویژن کے نمائندے سے ملاقات میں پاکستان کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام پر عملدرآمد اور فارماسیوٹیکل شعبے سے متعلق امور پر گفتگو کی۔
محمد اورنگزیب نے پروگرام کی سست پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 30 لاکھ خریدے گئے تشخیصی ٹیسٹس میں سے صرف ایک لاکھ کے قریب استعمال کیے گئے ہیں۔ انہوں نے پروگرام میں موجود انتظامی اور آگاہی سے متعلق مسائل کو دور کرنے اور پیش رفت تیز کرنے پر زور دیا۔
ملاقات میں ڈریپ کی ضابطہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے، فارماسیوٹیکل برآمدات میں تنوع، کینسر کے علاج سے متعلق منصوبوں اور ادویات کی قیمتوں سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ادویات کی قابلِ استطاعت قیمتوں، تجارتی پائیداری اور فراہمی کے تسلسل کے درمیان توازن کی ضرورت پر زور دیا۔
موسمیاتی مالیات اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’کلائمیٹ فنانس پر سلوشنز ڈائیلاگ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کی حساسیت اور خطرات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قابلِ اعتماد موسمیاتی موافقت، آفات سے نمٹنے کے فریم ورک، ابتدائی انتباہی نظام اور قابلِ عمل منصوبوں کی پائپ لائن تشکیل دینے پر توجہ دے رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان کی متنوع مالیاتی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی، جس میں ملکی وسائل، عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی، گرین انسٹرومنٹس کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس تک رسائی اور نجی سرمایہ کاری شامل ہے۔
انہوں نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گرین کلائمیٹ فنڈ سمیت بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ منظوری، ایکریڈیٹیشن اور فنڈز کی فراہمی کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے تاکہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو کلائمیٹ فنانس تک تیز رفتار رسائی حاصل ہو سکے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوسرے روز وزیر خزانہ کی سرگرمیوں میں توانائی کے تحفظ، ایوی ایشن، صحت اور موسمیاتی مالیات سمیت پاکستان کی معاشی و ترقیاتی ترجیحات پر توجہ مرکوز رہی۔
