سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور قابلِ عمل ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور مکمل طور پر قابلِ عمل ہے، پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی، بھارت اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں استحکام کی ایک اور بنیاد دباؤ کا شکار ہے، جبکہ سندھ طاس کا مشترکہ نظامِ آب نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا بھارت کا فیصلہ کسی قانونی بنیاد سے محروم ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور مکمل طور پر قابلِ عمل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے، دریاؤں کو قوموں کی پرورش کرنی چاہیے، انہیں تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔
شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں خطے میں امن و استحکام، پانی کے وسائل کے منصفانہ استعمال اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
