محکمہ ایکسائز پنجاب میں 21 ملین روپے کی مالی بے ضابطگی ثابت
سابق دور حکومت میں محکمہ ایکسائز پنجاب میں گاڑیوں کے لائف ٹائم ٹوکن کے معاملے میں 21 ملین روپے کی مالی بے ضابطگی ثابت ہوگئی۔ محکمہ ایکسائز پنجاب نے تحریک انصاف کے دور حکومت میں لائف ٹائم ٹوکن کی وصولی میں مالی ہیر پھیر کو تسلیم کرلیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ون کا اجلاس چیئرمین افتخار چھچھر کی زیر صدارت ہوا، جس میں لائف ٹائم ٹوکن کی رقم میں بے ضابطگی اور پانچ سال گزرنے کے باوجود ریکوری نہ ہونے کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے ریکوری میں تاخیر پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے گاڑیوں کے مالکان سے رقم وصول کرنے کے بجائے گاڑیاں بلاک کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی رکن کاشف رحیم نے کہا کہ غلطی محکمہ ایکسائز کی تھی، عوام نے تو فیس جمع کرائی، اس کے باوجود گاڑیاں بلاک کیوں کی گئیں۔
سیکرٹری ایکسائز نے کمیٹی کو بتایا کہ لائف ٹائم ٹوکن کے معاملے میں مالی ہیر پھیر ہوئی ہے اور اس کی تحقیقات محکمہ اینٹی کرپشن میں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملے میں ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
کمیٹی رکن یاور زمان نے سوال اٹھایا کہ اگر محکمہ ایکسائز نے ہی تمام کارروائی کرنی ہے تو پھر محکمہ اینٹی کرپشن کیا کر رہا ہے۔
چیئرمین پی اے سی ون افتخار چھچھر نے تحقیقات مکمل نہ ہونے پر اظہارِ ناراضی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ محکمہ اینٹی کرپشن سے تحقیقات میں تاخیر پر جواب طلب کیا جائے۔
