بینکاری کے نظام پر عوامی اعتماد میں اضافہ اور سستے نرخوں پر شفاف خدمات کی فراہمی ضروری ہے، سلیم اللہ صدیقی
معروف تجزیہ کار سلیم اللہ صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں 29 مختلف سرکاری، نجی، ڈیجیٹل، غیر ملکی اور کمرشل بینک عوام کو بینکاری کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ملک بھر میں ان بینکوں کی تقریباً 18 ہزار برانچز کام کر رہی ہیں۔
اپنی رپورٹ میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے سلیم اللہ صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں بینکاری کا وسیع نیٹ ورک موجود ہونے کے باوجود صرف تقریباً 30 فیصد عوام بینکاری کی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں، جس کے باعث مالیاتی شمولیت کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ 19 بینکوں میں الائیڈ بینک، عسکری بینک، بینک آف پنجاب، بینک الفلاح، بینک الحبیب، بینک آف خیبر، فیصل بینک، حبیب بینک، حبیب میٹروپولیٹن بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک سمیت دیگر بینک شامل ہیں۔
سلیم اللہ صدیقی نے کہا کہ مالی لین دین کے لیے بینک ایک محفوظ ذریعہ ہیں، تاہم عوام کا بینکاری نظام پر اعتماد مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو چاہیے کہ وہ صارفین کو سستے نرخوں پر شفاف اور معیاری بینکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینکاری سہولیات تک عوام کی رسائی میں اضافے، شفافیت اور صارفین کے اعتماد کو مضبوط بنا کر ملک میں مالیاتی شمولیت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
