موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے وعدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا ہوگا، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے وعدوں کو عوام اور مقامی کمیونٹیز کے لیے ٹھوس اور عملی نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر نیویارک میں کلائمیٹ امپلی منٹیشن برج کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے موسمیاتی وعدوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے تین بنیادی تقاضوں کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ ان تقاضوں میں مضبوط پالیسی فریم ورک، مالی وسائل تک رسائی اور ملکی سطح پر منصوبوں کو عملی شکل دینے کی صلاحیت شامل ہیں۔
محمد اورنگزیب نے موسمیاتی پالیسی کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت اور ملکی وسائل، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، کیپٹل مارکیٹس اور موسمیاتی فنڈز کے ذریعے مالی وسائل متحرک کرنے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ادارہ جاتی تقسیم اور سرمایہ کاری و مالی معاونت کے قابل منصوبوں کی کمی مؤثر عملدرآمد میں بدستور رکاوٹ ہے۔ انہوں نے 2022 کے پاکستان کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معاونت کے وعدوں کے باوجود مناسب منصوبوں کی عدم دستیابی کے باعث بعض مالی وسائل استعمال نہیں کیے جا سکے۔
انہوں نے کلائمیٹ امپلی منٹیشن برج میں پاکستان کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے شراکت داروں پر زور دیا کہ ایسے عملی فیصلوں پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو اس اقدام کو محض مکالمے سے آگے بڑھا کر عملی اقدامات کی جانب لے جائیں۔
