لاڑکانہ پولیس کی جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں، اشتہاری و منشیات فروش ملزمان گرفتار
ایس ایس پی لاڑکانہ اظہر خان کی ہدایات پر پولیس نے جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے مختلف کارروائیوں میں اشتہاری اور منشیات فروش ملزمان کو گرفتار کرلیا، جبکہ پولیس اہلکار بہرام کٹوہر کو زخمی کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کی بھی وضاحت کردی گئی۔
شعبہ اطلاعات لاڑکانہ پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر پولیس اہلکار بہرام کٹوہر کو زخمی کیے جانے کی خبر کا تعلق ضلع لاڑکانہ سے نہیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ مراد جمالی کی حدود ٹیپل میں پیش آیا تھا، جسے سوشل میڈیا پر گاؤں وڈا بوسن، ضلع لاڑکانہ سے منسوب کیا گیا، جو درست نہیں۔
پولیس کے مطابق زخمی اہلکار کا علاج لاڑکانہ کے ٹراما سینٹر میں جاری ہے۔ ایس ایس پی لاڑکانہ اظہر خان نے اہلکار کے علاج معالجے کا خصوصی خیال رکھنے کے لیے ویلفیئر انچارج کو ٹراما سینٹر میں موجود رہنے اور ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ ضلع لاڑکانہ کی حدود میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
دوسری جانب تھانہ عاقل پولیس نے پیر شیر بائی پاس پر کارروائی کرتے ہوئے قتل کے مقدمے میں مطلوب اشتہاری ملزم حبیب جتوئی کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزم اپنے بھائی کے قتل کے مقدمے میں 2024ء سے اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ گرفتار ملزم کا کرمنل ریکارڈ چیک کرنے سمیت مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ادھر ایس ایس پی لاڑکانہ اظہر خان کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت رتوڈیرو پولیس نے سٹیڈیم والے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے دو مبینہ منشیات فروشوں کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزم شمس الدین عاربانی کے قبضے سے ایک کلو سے زائد چرس اور 55 پڑیاں آئس، جبکہ ملزم شفیع محمد کلہوڑو قاضی کے قبضے سے ایک کلو سے زائد چرس اور 45 پڑیاں ہیروئن برآمد کی گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار دونوں ملزمان مبینہ طور پر منشیات کی سپلائی میں ملوث تھے۔ گرفتار ملزمان سے منشیات کے خریداروں، مقامی ڈیلرز اور سہولت کاروں سے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ ان کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔
ایس ایس پی لاڑکانہ اظہر خان نے کہا ہے کہ منشیات کے خاتمے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ گرفتار ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
