عالمی بحری قوانین پر عملدرآمد کیلئے قانون سازی، تربیت اور استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے، جنید انوار
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان بحری شعبے اور اس سے متعلق آپریشنز میں بین الاقوامی بحری قوانین اور معیارات پر عمل درآمد کر رہا ہے، تاہم ان قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے قانون سازی، تربیت، نفاذ اور استعداد کار میں مزید اضافہ ضروری ہے۔
ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ 2026 کا موضوع ’’پالیسی سے عمل درآمد تک: بحری شعبے میں بہترین کارکردگی کا فروغ‘‘ بحری پالیسیوں اور بین الاقوامی معیارات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحری معیارات پر مؤثر عمل درآمد کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں، ریگولیٹرز، بندرگاہوں، شپنگ کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ بحری شعبے میں تربیت اور تکنیکی تعاون بھی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں تاکہ بحری جہازوں پر خدمات انجام دینے والے افراد اور دیگر ماہرین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ بحری تعلیم کے فروغ کے لیے میری ٹائم ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے، جس کے لیے ایک ارب 20 کروڑ روپے کی ابتدائی رقم مختص کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری جاری کرنے والے ادارے کے طور پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ بحری شعبے میں تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر کے مطابق گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کو جدید بنانے کے لیے 12 ارب روپے کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ منصوبے کے تحت بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ یارڈ کو بین الاقوامی حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
انہوں نے بحری آپریشنز میں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سمندری آلودگی پر قابو پانے اور ماحول دوست شپنگ کی جانب منتقلی کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ ساحلی علاقوں میں مینگرووز کی بحالی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے سمندری آلودگی کے خاتمے کے لیے ہفتہ وار صفائی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ ورلڈ میری ٹائم ڈے 2026 کا موضوع پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بھی اہم ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے اور جدت کے ذریعے ہدف 9، موسمیاتی اقدامات کے ذریعے ہدف 13، سمندروں کے تحفظ کے ذریعے ہدف 14 اور عالمی شراکت داری کے ذریعے ہدف 17 کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ موضوع پاکستان کے لیے بندرگاہی آپریشنز، شپنگ، بحری تحفظ، بحری عملے کی تربیت اور سمندری ماحول کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اپنے طویل مدتی وژن کا ذکر کرتے ہوئے جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا مجوزہ ’’میری ٹائم سنچری 2047ء تا 2147ء‘‘ گہرے سمندر میں نئی بندرگاہوں کے قیام، مصنوعی ذہانت سے لیس بحری صنعتی مراکز کے قیام، جہاز سازی و ری سائیکلنگ، ماحول دوست اور ڈیجیٹل بندرگاہوں کی ترقی اور علاقائی بحری تعاون کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے گا۔
