دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے گریز کریں، محکمہ زراعت
اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم نے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ سموگ کے خطرات کے پیش نظر دھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں اور مڈھوں کی تلفی کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے سنگین اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ سموگ ماحولیاتی آلودگی کی خطرناک شکل ہے جو انسانی صحت، جانوروں، پودوں، فصلوں اور مجموعی ماحول پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
رانا سلیم نے کہا کہ ٹریفک اور صنعتی اداروں سے خارج ہونے والا دھواں سموگ کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، تاہم فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا اہم سبب ہے۔ دھان کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، اس لیے کاشتکار مڈھوں اور دیگر باقیات کو جلانے سے مکمل اجتناب کریں۔
انہوں نے بتایا کہ دھان کے مڈھوں کو جلانے سے فضائی آلودگی اور سموگ میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ اور مفید اجزا بھی متاثر ہوتے ہیں، جس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔
محکمہ زراعت کے افسر نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ مڈھوں کو آگ لگانے کے بجائے انہیں زمین میں شامل کیا جائے۔ دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر جبکہ مشینی کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کے ذریعے فصل کی باقیات زمین میں ملائی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گہرا ہل چلا کر فی ایکڑ آدھی بوری یوریا چھٹہ کرنے کے بعد پانی لگانے سے بھی فصل کی باقیات کو زمین میں تحلیل کرنے اور زمین کی زرخیزی و پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
رانا سلیم نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں قانون کے تحت ایف آئی آر، گرفتاری اور 2 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کی روک تھام، انسانی زندگیوں اور فصلوں کو مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فصلوں کی باقیات جلانے سے مکمل اجتناب کریں اور محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات کے مطابق مڈھوں کو تلف کریں۔
