پاکستان کا کشمیر اور فلسطین کے حق خودارادیت پر اقوام متحدہ سے عملدرآمد کا مطالبہ
پاکستان نے غیرملکی قبضوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے عوام کے حق خودارادیت سے متعلق اپنی دیرینہ قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں عام بحث سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کو ایک صورتحال میں بھرپور طریقے سے نافذ اور دوسری صورتحال میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عثمان جدون نے کہا کہ کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں جن میں ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کرنے کی بات کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی آزادیوں پر پابندیاں اور دباؤ مزید بڑھا ہے، جبکہ علاقے کے آبادیاتی اور سیاسی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق من مانی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، اظہار رائے اور پرامن اجتماع پر پابندیاں اور آبادیاتی تبدیلی کی کوششیں طویل عرصے تک جاری رہنے کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔
بھارتی مندوب کی جانب سے کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دیے جانے پر پاکستانی نمائندے نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مؤقف کے مطابق جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس کی حتمی حیثیت متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے کی جانی ہے۔
فلسطین کے حوالے سے عثمان جدون نے کہا کہ فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ میں، جس صورتحال سے گزر رہے ہیں وہ عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور احتساب یقینی بنانے پر زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو عملی شکل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش محدود مالی گنجائش، غیر پائیدار قرضوں، موسمیاتی بحران اور بڑھتی ہوئی تکنیکی خلیج جیسے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انسانی حقوق کے ایجنڈے میں حقِ ترقی کو مناسب مقام دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
عثمان جدون نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مقدس علامات کی بے حرمتی اور مسلمانوں و ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سطح پر مستقل اور جامع اقدامات پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت تکنیکی ترقی تعلیم، صحت اور مواقع تک رسائی میں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم ٹیکنالوجی کو انسان مرکز، جامع اور قابل رسائی بنانا ضروری ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک بھی اس کی تشکیل اور فوائد میں مساوی شریک ہوں۔
جوابی بیان میں پاکستانی نمائندے سرفراز احمد گوہر نے بھارتی مندوب کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت پر مبنی ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہوئے مسئلے کے پرامن حل کی جانب پیش رفت کرے۔
پاکستانی نمائندے نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔
